کسانوں نے کہا!قانون واپسی نہیں تو گھرواپسی بھی نہیں -وزیرزراعت نے کہا!تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی ہیں
نئی دہلی،5؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)نئی دہلی کے وگیان بھون میں کسان تنظیموں اور حکومت کے وزراکے مابین ہونے والی میٹنگ آج ایک بار پھربے نتیجہ ختم ہوگئی - آج دونوں فریقوں کے مابین آٹھویں راؤنڈکی میٹنگ بھی ناکام ہوگئی - آج کی میٹنگ میں کسان صرف قانون واپس لینے کے مطالبے پر ڈٹے رہے-کسانوں نے ایک بارپھر صاف لفظوں میں کہاکہ قانون واپسی نہیں تو گھرواپسی نہیں -
اس پر مرکزی وزیرزراعت نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے- حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ قوانین کو واپس نہیں لے گی، مگر وہ ترمیم کیلئے تیار ہے- حکومت کے وزرا نے کہاہے کہ وہ ایک بار پھر کسان تنظیموں سے بات کریں گے- دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات کا اگلا دور8جنوری کو ہوگا-
ذرائع نے اس خبرکے حوالے سے بتایاہے کہ نریندر سنگھ تومرنے میٹنگ میں کہاہے کہ آپ ایم ایس پی پر اپنے مطالبات کے لیے تیار ہیں، تبادلہ خیال کریں اور ہمیں اپنا مطالبہ بتائیں -وزراء سے بات چیت کے بعد کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ وہ 8جنوری 2021کو حکومت کے ساتھ دوبارہ میٹنگ کریں گے- انہوں نے کہاہے کہ تینوں زرعی قوانین سے دستبرداری اور ایم ایس پی کے معاملے پر8 تاریخ کوایک بار پھر بات ہوگی-
انہوں نے کہاہے کہ ہم نے حکومت کو بتایا ہے کہ قانون کی واپسی ہی گھر واپسی کی شکل ہے-کسانوں اور حکومت کے مابین ہونے والی بات چیت سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ کسان تنظیموں کے ایم ایس پی کی تحریری یقین دہانی اور تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر حکومت نے کہاہے کہ آئیے یہ فیصلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بنائیں کہ ان تینوں قوانین میں کیاترمیم کی جانی چاہیے-
ذرائع کے مطابق حکومت کی اس تجویز کو کسان تنظیموں نے مسترد کردیاہے-کسان تنظیمیں اسے ٹالنے والارویہ سمجھ رہی ہیں اسی لیے ایسی کسی تجویزکوماننے سے انکارکررہی ہیں - انھوں نے کہاہے کہ قانون واپسی واحدراستہ ہے -